Tuesday, 10 November 2020
  0 Replies
  4K Visits
0
Votes
Undo
  Subscribe

مرزا غلام احمد قادیانی کا قدیم خیر خواہ خاندان


3 years ago
·
#57
Accepted Answer
0
Votes
Undo

ضمیمہ نمبر ۳



منسلکہ کتاب تریاق القلوب



حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست



جبکہ ہماری یہ محسن گورنمنٹ ہرایک طبقہ اوردرجہ کے انسانوں کی بلکہ غریب سے غریب اور عاجز سے عاجز خدا کے بندوں کی ہمدردی کر رہی ہے یہاں تک کہ اس ملک کے پرندوں اورچرندوں اور بے زبان مویشیوں کے بچاؤکے لئے بھی اس کے عدل گستر قوانین موجود ہیں اور ہر ایک قوم اور فرقہ کو مساوی آنکھ سے دیکھ کر اُن کی حق رسی میں مشغول ہے تو اِس انصاف اور داد گستری اور عدل پسندی کی خصلت پر نظر کرکے یہ عاجز بھی اپنی ایک تکلیف کے رفع کے لئے حضور گورنمنٹ عالیہ میں یہ عاجزانہ عریضہ پیش کرتا ہے اور پہلے اِس سے کہ اصل مقصُود کو ظاہر کیا جائے اِس محسن اور قدرشناس گورنمنٹ کی خدمت میں اس قدر بیان کرنا بے محل نہ ہوگا کہ یہ عاجز گورنمنٹ کے اُس قدیم خیرخواہ خاندان میں سے ہے جس کی خیرخواہی کا گورنمنٹ کے عالی مرتبہ حکام نے اعتراف کیا ہے اور اپنی چٹھیوں سے گواہی دی ہے کہ وہ خاندان ابتدائی انگریزی عملداری سے آج تک خیر خواہی گورنمنٹ عالیہ میں برابر سرگرم رہا ہے۔ میرے والد مرحوم میرزا غلام مرتضیٰ اس محسن گورنمنٹ کے ایسے مشہور خیرخواہ اور دِلی جان نثار تھے کہ وہ تمام حکا م جو اُن کے وقت میں اس ضلع میں آئے سب کے سب اِس بات کے گواہ ہیں کہ انہوں نے میرے والد موصوف کو ضرورت کے وقتوں میں گورنمنٹ کی خدمت کرنے میں کیسا پایا اور اِس بات کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ انہوں نے ۱۸۵۷ء کے مَفسدہ کے وقت اپنی تھوڑی سی حیثیت کے ساتھ پچاس گھوڑے مع پچاس جوانوں کے اس محسن گورنمنٹ کی امداد کے لئے دیئے اور ہر وقت امداد اور خدمت کے لئے کمر بستہ رہے یہاں تک کہ اس دنیا سے گذر گئے۔ والد مرحوم گورنمنٹ عالیہ کی نظر میں ایک معزز اور ہردلعزیز رئیس تھے جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی تھی


There are no replies made for this post yet.
Back To Top